اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں عرب جمہوریہ شام کے مندوب بشار الجعفری نے نیویارک میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کو ضروری دستاویزات پیش کرنے کے بعد، شام باضابطہ طور پر کیمیاوی تخفیف اسلحہ کے بین الاقوامی معاہدے میں شامل ہوچکا ہے۔واضح رہے کہ امریکہ کی طرف سے شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے بہانے اس ملک پر حملہ کرنے کی دھمکیوں کے بعد روس نے شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کی عالمی نگرانی کی تجویز پیش کی تھی جس کا شام نے خیر مقدم کیا اور کسی بہانے اس جھنجھٹ سے آبرومندانہ طور پر نکلنے کے لئے کوشاں صدر اوباما نے بھی روسی تجویز کے بعد اعلان کیا ہے کہ اگر اس تجویز پر عمل کیا جائے تو شام پر مجوزہ حملہ روکا جاسکتا ہے۔ روسی صدر پیوٹن نے امریکی صدر کے دعوؤں اور دھمکیوں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ جھوٹ بول رہا ہے کیونکہ شام میں حکومت شام نے ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کئے ہیں بلکہ 21 اگست کو مغرب اور عرب ممالک کے حمایت یافتہ دہشت گردوں نے ایٹمی ہتھیار استعمال کئے ہیں تاکہ امریکی حکمرانوں کو شام پر حملہ کرنے کے لئے آمادہ کریں۔ ادھر شام کے صدر بشار الاسد نے رشیا 24 چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے اپنے کیمیاوی ہتھیاروں کی بین الاقوامی نگرانی امریکی دھمکیوں کی وجہ سے نہیں، بلکہ روسی تجویز کی بنا پر قبول کی ہے۔ تاہم صدر الاسد نے کہا کہ دمشق صرف اس وقت عملی طور پر اپنے کیمیاوی ہتھیاروں کی بین الاقوامی نگرانی کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے گا جب امریکہ بھی شام کو فوجی حملوں کی دھمکیاں دینا ہمیشہ کے لئے چـھوڑ دے گا۔ بشار الاسد نے کہا کہ دمشق بین الاقوامی تخفیف کیمیاوی اسلحہ معاہدے کی رکنیت حاصل کرنے کے ایک ماہ بعد اپنے کیمیاوی ہتھیاروں کی معلومات اقوام متحدہ کو فراہم کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ بین الاقوامی اسٹینڈرڈ کا تقاضا ہے جس پر ان کا ملک عمل کرے گا۔ ................./٭۔٭
شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کا مسئلہ؛
پہلا قدم اٹھایا گیا؛ کیمیاوی ہتھیاروں کی نگرانی میں امریکی دھمکی مؤثر نہیں۔۔ صدراسد
13 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 462699
اقوام متحدہ میں شام کے مندوب بشار الجعفری نے کہا ہے کہ ان کا ملک کیمیاوی تخفیف اسلحہ کے عالمی معاہدے میں شامل ہوگیا ہے/ ادھر صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ امریکی دھمکیاں شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کی بین الاقوامی نگرانی کا سبب نہیں ہوئیں بلکہ اس کا سبب روس کی تجویز ہے۔